کاسرگوڈ 16؍اپریل (ایس اونیوز) جموں وکشمیر کے کٹھوا میں آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اور وحشیانہ قتل کی مذمت میں باضابطہ طور پر ہڑتال کا اعلان یا مطالبہ کسی بڑی تنظیم یا پارٹی کی طرف سے نہ کیے جانے کے باوجود آج کیرالہ میں پوری طرح غیر معلنہ ہڑتال منائی گئی۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق بطور مذمت و احتجاج کیرالہ میں ہرجگہ دفاتر،دکانیں اور کاروباری ٹھکانے بند رہے۔ سڑکوں پر سے موٹر گاڑیاں غائب رہیں ۔ اس ہڑتال کے لئے ’جنا پرا سمیتی کیرالہ‘ کے نام سے وہاٹس ایپ سمیت دیگر سوشیل میڈیا پر پیغامات عام کیے گئے تھے۔جس سے عوام الجھن کا شکار ہوگئے تھے کہ اس پر عمل کیا جائے یا نہیں۔لیکن لوگوں نے احتیاطی طور پر موٹر گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ اتارنے میں عافیت سمجھ لی ۔ اسی طرح بسیں بھی بند رکھی گئیں۔کچھ مقامات پر ٹریفک روکنے کے لئے بڑے بڑے پتھر ا،درختوں کی شاخیں، تنے ، ٹائرس، ڈرمس اور دیگر رکاوٹ پیدا کرنے والی چیزیں سڑکوں پر ڈال دی گئی تھیں۔بعض جگہوں پر ٹائرس جلانے اور سڑکوں پر نظر آنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ہائی وے پر گاڑیوں کو دوڑنے سے روکنے اور کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ بس پر سنگ باری کرکے اس کے شیشے چور چور کردینے کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔
اتوار کی شام سے سوشیل میڈیا پر ہڑتال کے پیغامات عام ہورہے تھے ، چونکہ ہڑتال کا اعلان کرنے والی کسی تنظیم کا نام نہیں تھا، اس لئے پولیس نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ لیکن جب اتوار کے آدھی رات کے بعدصبح تک موٹر گاڑیوں کی آمد ورفت روکنے کے واقعات پیش آنے لگے توپھر پولیس حرکت میں آگئی ۔ معلوم ہواہے کہ ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں پولیس نے 25افراد کو اپنی حراست میں لیا ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ اس اچانک ااور غیر متوقع ہڑتال سے عام لوگوں اور خاص کر مسافروں کو بڑی ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ دفاتر اور دیگر ادارے بند ہونے کی وجہ سے دفتری کام کے لئے دوردراز سے آنے والے افراد مشکل میں پھنس گئے۔ٹرینوں کے ذریعے بیرونی شہروں سے پہنچنے والے سینکڑوں مسافر وں کو ریلوے اسٹیشنوں تک ہی محدود رہنا پڑا کیونکہ انہیں اپنے اپنے گھروں تک جانے کے لئے کوئی سواری دستیاب نہیں تھی۔
پولیس نے صبح ہی سے اپنا بندوبست تیز کردیا اور حالات کو پرامن بنائے رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کیے۔ جس کی وجہ سے کہیں سے بھی تشددیا تصادم کی خبریں نہیں ملی ہیں۔